بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے کہا:
- انھوں نے کہا کہ مزاحمت خطے میں اسرائیلی قبضے کے خلاف بنی ہے جس کو امریکہ کی حمایت حاصل ہے۔
- اسرائیل کی تمام جنگیں توسیع پسندانہ تھیں اور معاہدے قبضے کے استحکام کے لئے کے لئے تھے، اسی لئے اسرائیل کسی معاہدے کا پابند نہیں رہا۔
- امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل نہ قبضہ مستحکم کر سکتا تھا نہ توسیع پسندی کے خواب دیکھ سکتا تھا۔
- امریکہ غزہ اور فلسطین میں نسل کشی کا ذمہ دار ہے، لیکن فلسطینیوں کی مزاحمت قدس اور فلسطین کو ان کے مالکان کے لئے محفوظ رکھے گی۔
- مزاحمت کے لئے بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے لیکن ہتھیار ڈالنے کی صورت میں کچھ بھی باقی نہیں بچتا۔
- لبنان میں مزاحمت نہ ہوتی تو اسرائیل پورے ملک پر قبضہ کر لیتا، چنانچہ مزاحمت ہی مکمل آزادی کا واحد راستہ ہے۔
- اسرائیلی انتخابات کا نتیجہ شکست کی تصویر ہے اور امریکہ کی حالت بھی اس سے بہتر نہیں ہے۔
- ایران اور اس کی عظیم قوم نے مزاحمت کی اور بے شمار شہیدوں کا نذرانہ دیا، جن میں انقلاب اسلامی کے رہبرِ شہید سرفہرست ہیں لیکن اس ملک و قوم نے نظام اسلامی کو گرانے کے امریکی-اسرائیلی اہداف ناکام بنا دیئے۔
- اب واضح ہو چکا ہے کہ امریکہ ایران پر تسلط نہیں پا سکتا؛ وہ سیاسی الجھن، شدید بحران اور عالمی پوزیشن کھوجانے بیسے نقصانات سے دوچار ہو گیا ہے۔
- امریکہ ایران کے خلاف جنگ میں شکست کھانے کے بعد اس وقت خطے سے انخلا کی تیاری کر رہا ہے۔
- یہ تمام تر کامیابیاں، فتوحات اور حصولیابیاں اسلامی جمہوریہ ایران کی مزاحمت اور امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حکیمانہ اور دلیرانہ قیادت کا ثمرہ ہیں۔
- اسرائیلی قبضہ گریاں اور جارحیتیں جاری ہیں، چنانچہ مزاحمت کے غیر مسلح ہونے کی بات بے معنی ہے۔
- دشمن کو 27 نومبر 2024 کے معاہدے اور قرارداد 1701 کے مطابق پسپا ہونا چاہئے اور لبنانی فوج کو دریائے لیطانی کے جنوب میں تعینات ہونا چاہئے۔
- "فریم ورک معاہدے" کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، یہ آئین، طائف معاہدے، قوانین اور حکومتی بیانات سے متصادم اور "کالعدم" ہے؛ یہ نام نہاد معاہدہ دشمن کے ناجائز مطالبات قبول کرتا ہے، لبنان کی طاقت کو اپنے ذرائع سے دستبردار ہونے پر مجبور کرتا ہے اور فتنے اور تباہی پر مبنی ہے۔
- حزب اللہ ایران-امریکہ معاہدے کو اہمیت دیتی ہے کیونکہ مزاحمت، عوام اور حامیوں کے ساتھ یہ طاقت کا واحد دستیاب ذریعہ ہے؛ مفاہمت کی یادداشت جاری ہوتے ہی۔، اس نے لبنان پر جارحیتیں کم کر دیں اور اپنی افادیت ثابت کر دی۔
- ایران نے اسرائیلی جارحیتوں کی روک تھام اور لبنانی سرزمین سے انخلا کو اپنی اولین ترجیح بنایا ہے، جو "عظیم قربانی" ہے اور ہم اسے دنیا کے احرار عالم کی نمایاں علامت سمجھتے ہیں۔
- ہمیں اس سے غرض نہیں کہ غاصب اسرائیل پر کون حکومت کرتا ہے، مگر انہیں جان لینا چاہئے کہ وہ قبضہ جاری نہیں رکھ سکتے اور انہیں ہماری سرزمین سے نکلنا ہوگا۔
حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے آخر میں لبنانی حکومت کے بعض کلیدی حصوں پر امریکی تسلط کے خاتمے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ امریکہ کی سرپرستی اور قیمومیت قبضے کے مترادف ہے اور دونوں لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزی کی آئینہ دار ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: فرحت حسین مہدوی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ